واشنگٹن،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی مبینہ نسل کشی کے خلاف نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت اور واشنگٹن میں برما کے سفارتخانے کے باہر جمعرات کو احتجاجی مظاہرے کئے گئے، جس میں مظاہرین نے نسل کشی بند کرنے اور اسے دہشت گردی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔میانمار کی حکومت کے خلاف ان مظاہروں کا اہتمام امریکی مسلمانوں کی مختلف تنظیموں نے کیا تھا، انہوں نے آج جمعہ کو بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔
واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'کیئر انٹرنیشنل' کے ڈائریکٹر نہاد اعواد نے الزام عائد کیا کہ ''برما کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی ضمیر برما کو اس نسل کشی سے روکے۔نہاد اعواد نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کریں اور ان سے مطالبہ کریں کہ برما حکومت کے خلاف کارروائی کی جائے۔انھوں نے مظاہرین کو ہدایت کی کہ ہمیں روہنگیا مسلماوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہئے، کیونکہ یہ ان کا انسانی فریضہ ہے۔انھوں نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا کہ روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے اور انھیں مساوی شہری حقوق دے۔مظاہرین ’’نسل کشی بند کرو‘‘، ’’نسل کشی دہشت گردی ہے‘‘، اور ’’ہمیں کیا چاہیے انصاف، انصاف‘‘کے نعرے لگارہے تھے۔انھوں نے ڈیرھ سے دو گھنٹے تک برما کے سفارتخانے کے اطراف میں مظاہرہ جاری رکھا۔